پیار بھی ہو جائے گا اظہار تک تو آ گئے
عارف پرویز نقیب
غزلیات
مطالعات: 116
پسند: 0
پیار بھی ہو جائے گا اظہار تک تو آ گئے
سایہ بھی آ جائے گا دیوار تک تو آ گئے
۔۔۔
پھول کچلے جائیں گے اور تتلیاں کٹ جائیں گی
کچھ خزاں زادے رہِ گلزار تک تو آ گئے
۔۔۔
اے بہارِ زندگی اب وصل کا پیغام دے
ہم کہ یادوں کے جہنم زار تک تو آ گئے
۔۔۔
عین ممکن ہے سبیل وصل بھی نکلے کوئی
وہ راہِ انکار سے اقرار تک تو آ گئے
۔۔۔
اب نقیبؔ اس عشق کا انجام کیا ہو کیا خبر
بانہوں کے یہ ہار مجھ پہ وار تک تو آ گئے
واپس جائیں