اک صدائے بے صدا سی گھومتی پھرتی ہے کیوں؟
عارف پرویز نقیب
غزلیات
مطالعات: 130
پسند: 0
اک صدائے بے صدا سی گھومتی پھرتی ہے کیوں؟
میرے گھر میں اب اداسی گھومتی پھرتی ہے کیوں؟
۔۔۔
قتل کی شب ششدر و حیران تھے قاتل مرے
اس لہو پہ ایک دعا سی گھومتی پھرتی ہے کیوں؟
۔۔۔
میری پتھر آنکھ سے پوشیدہ و پنہاں کہیں
دل کے پربت پہ گھٹا سی گھومتی پھرتی ہے کیوں؟
۔۔۔
گھر سے نکلی تھی جو لڑکی جگنوؤں کی کھوج میں
بن کے وہ خود پہ سزا سی گھومتی پھرتی ہے کیوں؟
۔۔۔
روز بکھرا میری گلیوں میں ہے خون بے کساں
اس شہر میں اک بلا سی گھومتی پھرتی ہے کیوں؟
۔۔۔
فرقتوں کے مندروں میں گھنٹیوں کے درمیان
قربتوں کی دیو دا سی گھومتی پھرتی ہے کیوں؟
۔۔
اے نقیبِؔ شہر سارے پھول کیا ہیں کٹ چکے؟
تتلی غالیچے پہ پیاسی گھومتی پھرتی ہے کیوں؟
واپس جائیں