جو کچھ بھی ہو رہا ہے تو اس کا حساب دے
عارف پرویز نقیب
غزلیات
مطالعات: 118
پسند: 0
جو کچھ بھی ہو رہا ہے تو اس کا حساب دے
اب ائے خدا تو خود ہی اس کا جواب دے
۔۔۔
میں نے کہا تھا گبھرو یہ ہوں گے لہو لہو
میں بھی تو نبی شہر مجھ کو کتاب دے
۔۔۔
کہتے ہیں سب کہ اللہ کی مرضی سے سب ہوا
قاتل کو پھر خطاؤں کا دُگنا ثواب دے
۔۔۔
نفرت کا علم فطرتِ انساں میں رچ گیا
ہے کون جو کہ پیار کا اُن کو نصاب دے
۔۔۔
میں بھی کھڑا کنارے پہ ہوں منتظر نقیبؔ
لمحہ وہ آئے مجھ کو بُلاوہ چناب دے
واپس جائیں