تم نے جو بھی ہو سمجھا سنا معذرت
عارف پرویز نقیب
غزلیات
مطالعات: 126
پسند: 0
تم نے جو بھی ہو سمجھا سنا معذرت
ہم کو ہونا تھا لازم جُدا معذرت
۔۔۔
تم کو جانا ہی تھا تم رُکے بھی نہیں
گر پڑی ہاتھ سے ہر دُعا معذرت
۔۔۔
بس میں میرے یہی تھا سو مَیں نے کیا
مَیں نے تُم کو بھلا ہی دیا معذرت
۔۔۔
تیری جانب سے پتھر اُٹھا اِس طرح
پھول ہاتھوں سے میرے گرا معذرت
۔۔۔
لے کے میں بھی کھڑا تھا دیا ہاتھ میں
میرے حق میں نہیں تھی ہوا معذرت
۔۔۔
اب یہ جگنو بھلا میرے کس کام کے
تُو نے ظلمت کی اوڑھی قبا معذرت
۔۔۔
وہ جو تیرا نقیبِؔ وفا تھا کبھی
تُو نے اُس کو گنوا ہی دیا معذرت
واپس جائیں