اُجڑ گیا ہے تو کیوں کر؟ نصیبِ شہر سے پوچھ
عارف پرویز نقیب
غزلیات
مطالعات: 127
پسند: 0
اُجڑ گیا ہے تو کیوں کر؟ نصیبِ شہر سے پوچھ
وہ جی رہا ہے تو کیسے؟ غریبِ شہر سے پوچھ
۔۔۔
یہ سرخ کس کی صداقت کا خون پی کے ہوئی
کیوں مجھ سے پوچھ رہا ہے، صلیبِ شہر سے پوچھ
۔۔۔
ہیں زخمی روحیں علاج و شفا سے کیوں محروم
یہ پوچھنا ہے تو اپنے طبیبِ شہر سے پوچھ
۔۔۔
وہ جو بھی کہتا ہے اِس پہ وہ کیوں نہیں قائم
مجھے سنانے سے کیا ہے؟ خطیبِ شہر سے پوچھ
۔۔۔
یہ دشمنی کی روایت کی حد کہاں تک ہے
مجھے نہ پوچھ یہ جا کر، حبیبِ شہر سے پوچھ
۔۔۔
جو چھین لیتے ہیں روزی بہ زورِ جبر و جفا
وہ کون لوگ ہیں جا کر حسیبِ شہر سے پوچھ
۔۔۔
اُداس اُداس ہیں آنگن لہو لہو گلیاں
کیوں چیختے ہیں یہ کوچے نقیبِؔ شہر سے پوچھ
واپس جائیں