بھلا چکے ہیں مجھے لوگ کیوں وفا کی طرح
عارف پرویز نقیب
غزلیات
مطالعات: 123
پسند: 0
بھلا چکے ہیں مجھے لوگ کیوں وفا کی طرح
کہ میں اکیلا ہوں دُنیا میں اب خدا کی طرح
۔۔۔
میں برگِ شجرِ محبت ہوں رہ بسر کب سے
اُڑا لے جاؤ مجھے تُم ہی اب ہوا کی طرح
۔۔۔
تُو اپنی ذات کے سارے دریچے وا کر دے
تری تلاش میں کب سے ہوں میں صدا کی طرح
۔۔۔
سنے ہیں شہر میں چرچے تری عبادت کے
مجھے بھی ہونٹوں پہ رکھ لے کسی دُعا کی طرح
۔۔۔
میں زخم زخم محبت ہوں شرمسارِ وفا
کہ جی رہا ہوں میں خود پہ کسی سزا کی طرح
۔۔۔
میں ان کے واسطے اک حرف بے وجہ ٹھہرا
کہ میرا نام بھی لیتے تھے جو ثنا کی طرح
۔۔۔
اسے سمیٹ کے رکھنا کُجا نقیبؔ میرے
تو خود ہی پھیل گیا ہے مگر خلا کی طرح
واپس جائیں