جانے کس جرم کی آخر سزا پا آئے
عارف پرویز نقیب
غزلیات
مطالعات: 122
پسند: 0
جانے کس جرم کی آخر سزا پا آئے
پرندے اب کے فضاؤں میں پر گنوا آئے
۔۔۔
اسے بھی یاد کہاں ہے کہ وہ ملا تھا ہمیں
ہمیں بھی یاد نہیں ہے کِسے بھلا آئے
۔۔۔
ہمیں گھسیٹا گیا ہے شہر کی گلیوں میں
گلی گلی میں چراغوں کی لَو بجھا آئے
۔۔۔
میں اپنے دَور کا موسیٰ ہوں دشتِ غربت میں
اب آسماں سے مجھے بھی کوئی غذا آئے
۔۔۔
نقیبؔ اُن سے یہ کہنا کہ ڈھونڈ لے ہم کو
وہ جن کو ڈھونڈنے نکلے تھے ہم گنوا آئے
واپس جائیں