جھونکا جو تیری یاد کا چھو کر گزر گیا
عارف پرویز نقیب
غزلیات
مطالعات: 136
پسند: 0
جھونکا جو تیری یاد کا چھو کر گزر گیا
صدمہ سا روح و جان میں جیسے اُتر گیا
۔۔۔
پتے اُڑا کے لے گیا، فکر و خیال کے
وہ شخص اک بگولہ سا جانے کدھر گیا
۔۔۔
روحِ وفا کو ڈھونڈتی پھرتی ہے زندگی
آ جا کہ تیرے بعد میں کتنا بکھر گیا
۔۔۔
نکلا ہے جو بھی گھر سے محبت کو کھوجنے
دیکھا نہیں کہ لوٹ کے پھر اپنے گھر گیا
۔۔۔
یہ عمر بھی تو آخر اک ہے وفا سی ہے
جب ہم نے سیکھا تیرنا دریا اُتر گیا
۔۔۔
"ق"
آئی جو تیری یاد تو آنسو چھلک پڑے
اک قرض تھا جو جان پہ وہ بھی اُتر گیا
۔۔۔
کتنے خیال باندھ کے دل رو پڑا نقیبؔ
کہتے ہیں جس کو عید وہ دن بھی گزر گیا
واپس جائیں