رشتوں کی دہلیز کو ہم نے مذبحہ بنتے دیکھا ہے
عارف پرویز نقیب
غزلیات
مطالعات: 129
پسند: 0
رشتوں کی دہلیز کو ہم نے مذبحہ بنتے دیکھا ہے
ہم نے جینے کی خواہش کو یوں بھی مرتے دیکھا ہے
۔۔۔
پتھر مارنے والوں میں جو پہلی صف میں ہوتے ہیں
میں نے اُن کو قبروں پہ گلدستے رکھتے دیکھا ہے
۔۔۔
تم نے کب دیکھا ہے منظر ورنہ تم بھی رو دیتے
میں نے صبح کے منظر کو بھی شام میں ڈھلتے دیکھا ہے
۔۔۔
تم تو خیر محبت کے عنوان سے بھی ناواقف تھے
ہم نے موم کے پُتلوں کو بھی پتھر بنتے دیکھا ہے
۔۔۔
پیار کی قیمت پوچھ کے تم نے میرے ہونٹ ہی سی ڈالے
تُم بتلاؤ تُم نے پیڑ کو سایہ بیچتے دیکھا ہے؟
واپس جائیں