جو روٹھ جائے منانے کی ضد نہیں کرتے
عارف پرویز نقیب
غزلیات
مطالعات: 126
پسند: 0
جو روٹھ جائے منانے کی ضد نہیں کرتے
کہ خود کو یوں بھی گنوانے کی ضد نہیں کرتے
۔۔۔
مٹا سکو تو مٹا دو کسی طرح دل سے
خطوں کو ایسے جلانے کی ضد نہیں کرتے
۔۔۔
یہ شہرِ درد مداوائے گم نہیں کرتا
کسی کو حال سنانے کی ضد نہیں کرتے
۔۔۔
لکھا ہے تُو نے مرا نام کیوں ہتھیلی پر
زمین و عرش ملانے کی ضد نہیں کرتے
۔۔۔
نقیبؔ چھوڑا ہے جس نے اُسے تلاش نہ کر
یہی ہے ریت زمانے کی ضد نہیں کرتے
واپس جائیں