میں بھی رزقِ خاک آخر ہو گیا
ہو گیا تو بھی نوالہِ زمیں
بس یہیں تک تھا گمانِ جستجو
بس یہیں تک تھی محبت بالقییں
۔۔۔
اس جہاں کی دھوپ میں اے جانِ جاں
ہم تھے سائے اور بس کچھ بھی نہیں
تم نے شاید
اس قدر سوچا نہ تھا
تم کو شاید
خود پہ تھا نہ اعتماد
ورنہ شاید
میں بھی اتنا سوچتا
۔۔۔
"کہ جو ہوا، دھونہ نہ تھا، دھوکا ہوا
کیوں بدن کی رغبتوں کو دی صدا
کیوں نہ مانگی ساتھ مرنے کی دعا"
۔۔۔
کاش تم یہ سوچتے کہ ایک دن
فاصلوں کی رات بھی تو آئے گی
قافلے سانسوں کے رک ہی جائیں گے
اور یہ مٹی ہمیں کھا جائے گی
۔۔۔
کاش، تم یہ سوچتے تو اِس طرح
فرقتوں میں ہم بھلا مرتے ہی کیوں
موت سے تو ہارنا تھا ایک دن
زندگی سے جنگ بھلا لڑتے ہی کیوں
۔۔۔
تم نے شاید
اِس قدر سوچا نہ تھا
اس کا بھی ادراک تم کو تھا نہیں
۔۔۔
میں بھی رزقِ خاک آخر ہو گیا
ہو گیا تو بھی نوالہِ زمیں