جب سے خود پہ ہنسنے کا فن سیکھ لیا
عارف پرویز نقیب
غزلیات
مطالعات: 119
پسند: 0
جب سے خود پہ ہنسنے کا فن سیکھ لیا
میں نے سب سے چھپنے کا فن سیکھ لیا
۔۔۔
تیرے بعد تو راہِ غم پہ، قدموں نے
ہر منزل پہ رُکنے کا فن سیکھ لیا
۔۔۔
میں نے سینے کی اِس چار دیواری میں
دل کو قیدی رکھنے کا فن سیکھ لیا
۔۔۔
جب سے تیرے خواب چھنے ہیں آنکھوں سے
سوتے میں بھی جگنے کا فن سیکھ لیا
۔۔۔
کتنی دیر انا کا قیدی ہو رہتا
ہر اک کا دل رکھنے کا فن سیکھ لیا
۔۔۔
جگنو، تتلی، تارا، چندا، سورج کو
اپنی آنکھ میں رکھنے کا فن سیکھ لیا
۔۔۔
دیکھ نقیبؔ نے خود کو پتھر کر ڈالا
تیری یاد سے بچنے کا فن سیکھ لیا
واپس جائیں