ہم جو آنسو چھپانے نکلے تو دوسروں کے بھی دُکھ سمیٹے
عارف پرویز نقیب
غزلیات
مطالعات: 121
پسند: 0
ہم جو آنسو چھپانے نکلے تو دوسروں کے بھی دُکھ سمیٹے
کہ درد بھگتے ہیں فرقتوں کے تو قربتوں کے بھی دُکھ سمیٹے
۔۔۔
ہم تھے مجذوبِ عشق ایسے، مثال خود سی کہاں سے لاتے
عدوئے جاں کو بھی پھول بھیجے تو دوستوں کے بھی دُکھ سمیٹے
۔۔۔
پھول رکھے ہیں جو کتابوں میں خشک ہو کے بھی خندہ زن ہیں
سمیٹ رکھے ہیں ہم نے اب تک جو اُن خطوں کے بھی دُکھ سمیٹے
۔۔۔
چلے تھے بے سمت، بے چراغ اور بے وفا کی تلاش میں ہم
یوں راستوں کے فریب کھائے تو منزلوں کے بھی دُکھ سمیٹے
۔۔۔
کم تو نہ تھے عذابِ جاں سے نقیبؔ یہ بھی کہ تُم نے دیکھا
کہ غم سہے ہیں جو تتلیوں کے تو جگنوؤں کے بھی دُکھ سمیٹے
واپس جائیں