زندگی یونہی گزرتی ہی چلی جاتی ہے
وکٹر جان
غزلیات
مطالعات: 17
پسند: 1
زندگی یونہی گزرتی ہی چلی جاتی ہے
ریت مٹھی سے سرکتی ہی چلی جاتی ہے
پھر تیرے درد کی دولت سے میری جانِ وفا
دل کی ویرانی نکھرتی ہی چلی جاتی ہے
خس و خاشاکِ تمنا میں کسی کے غم کی!
ایک چنگاری بھڑکتی ہی چلی جاتی ہے
لاکھ چاہا تھا کہ ہونٹوں کو سیئے ہی رکھوں
بات سے بات نکلتی ہی چلی جاتی ہے
جانِ صحرا میں سرابوں کا تعاقب جیسے
زندگی ہے کہ بھٹکتی ہی چلی جاتی ہے
واپس جائیں