Fakhta logo
فاختہ بائبل اسٹڈی ٹولز
جلد متوقع مشمولات
جس کی ہے ہر رمز سمندر - فاختہ

جس کی ہے ہر رمز سمندر

وکٹر جان مضامین مطالعات: 5 پسند: 0

عکس کے پیچھے عکس کی تلاش میں نکلے راہی کو ہمیشہ ایسا راستہ ملتا ہے جو رموز سے مزین اور سچ سے معمور ہوتا ہے
گو کہ اس راستے پر چلنا دشوار اور کٹھن ہوتا ہے نذیر قیصر ایسا ہی ایک راہی ہے جو حقیقت
کے عکس میں رموز کی ایسی پرت در پرت بنت کاری کرتا ہے کہ ہر رمز ہمارے سامنے ایک پیکر بے مثال کا روپ دھارے, دھڑکنوں کا لباس اوڑھے, عشرت نا تمام کی قبا زیب تن کیے آن موجود ہوتی ہے کہیں کہیں یہ رمز ایک تپش نا تمام کے سانچے میں ڈھل جاتی ہے اور ہمیں یوں مخاطب کرتی ہے

کون ہوں کیوں پھرتا ہوں تنہا گلیوں میں
آنکھیں ہیں تو جھانکو میری غزلوں میں

نذیر قیصر کی شاعری میں حرف اور لفظ کا باہمی ربط رقصاں نظر آتا ہے مصرعے گنگناتے ہیں اشعار ایک طلسماتی نور کی طرح دل و دماغ کے تاریک خلوت کدوں میں اپنی ضوفشانی کو پر فشاں کرتے ہیں اسی لیے ان کے ہر شعر میں جب درخشاں ریشمی کہکشاں جگہ جگہ سکوت اور گفتگو کے امتزاج کی تصویر بن کر ابھرتی ہے تو ان کی شاعری میں تشبہات و استعارات اور تلمیحات کو وہ دائمی رنگ میسر آتا ہے جو موجودہ دور کے تمام شعرا سے یکسر مختلف بھی ہے اور رموز سے بھر پور دنیا کا تعارف اور تشریح بھی ہے جو سات رنگ کی قوس قزح سے نکل کر اپنا ایک آٹھواں رنگ
اجالتی ہے جو ان کی شاعری سے سائباں کی طرح لپٹا ہے اس رنگ سے کئی معانی تخلیق پاتے ہیں جو کہیں مرئی اور کہیں غیر مرئی صورت اختیار کرکے ایک ان مٹ نقش بن کر پکارتے ہیں

ہاتھ جلتے ہیں جھکاتے ہوۓ مشعل قیصر
کوئی شعلہ ہے جو بویا نہیں جاتا مجھ سے

نذیر قیصر کے الفاظ شیرینی اور حلاوت سے مملو ہیں جن میں جذبات محبت خواھش آرزو امید اور رجائیت کی ادا ہر سو رقص کرتی نظر آتی ہے یہ ادا بھی ایک رمز ہے جو کہیں چراغ بن کر ضیائیں لٹاتی ہے تو کہیں کرن کرن بکھر جاتی ہے کہیں چاندنی بن کر نکھرتی ہے کھلکھلاتی ہے مسکراتی ہے اور یہ پیغام سناتی ہے کہ حروف اپنے تخلیق کار کے توسل سے امر ہو کر دیکھنے اور بولنے لگتے ہیں

جاگتے ہیں سوتے ہیں
حرف آنکھیں ہوتے ہیں

انہی پھول کھلاتے لفظوں اور رموز کی ہمرکابی میں وہ کئی وادیوں کا سفر کرتے چلے جاتے ہیں قدم قدم پر صفحہ حیات پر قلم فرسائی کرتے ہیں اور شعور کی بے پایاں موجوں کی سیاہی سے سمندر تخلیق کرتے ہیں جس کی لہریں ان کے دل و جاں میں ہی نہیں بلکہ ان کی روح میں بھی نغمہ زن ہوتی چلی جاتی ہیں اور وہ ساری دنیا کو ببانگ دھل کہتے ہیں

میں سوتا ہوں سمندر جاگتا ہے
سمندر میرے اندر جاگتا ہے

ان کا انداز تکلم اور فصاحت ایک زندہ رمز کی پرواز ہے جو بذات خود کہیں متفق اور کہیں کشمکش کی صورت اختیار کر لیتی ہے جو بعد میں ایک لافانی رخشندگی سے منور چہرہ لیے مسکراتی ہوئی نظر آتی ہے پھر خود ہی وحشت ناک گہرائیوں سے جھانکتی ہوئی تضاد کی کیفیت کو اوڑھ لیتی ہے کبھی خودبخود پکار اٹھتی ہے

ہنسنے لگتا ہوں تو ہو جاتی ہیں آنکھیں پانی
رونے لگتا ہوں تو رویا نہیں جاتا مجھ سے

نذیر قیصر محبت کا دیوتا ہے وہ دیوتا نہیں جو یہ چاہتا ہے کہ اس کی پوجا کی جاۓ بلکہ وہ دیوتا ہے جو آگ میں پھول کھلاتا ہے جو روح کی تشنگی کو خاموشی سے سیراب کرتا ہے جو خود اپنے لفظوں کے مقدس وجود کو اٹھاۓ ادراک کی وادی سے گزرتے ہوۓ ہر مسافر کو با آواز بلند پکارتا ہے ضیا پاش نگاہوں سے حیات نو کی رمز کو تفکرات سے آزاد کرتا ہے اور خود گلی گلی نگر نگر سلامتی کا پیغام دیتے ہوئے ایک فقیر کی مانند الکھ جگاتا ہے جسے اپنی خاموشی اور ہستی پر بھروسہ ہے جسے ہر زاویے سے دنیا خوبصورت نظر آتی ہے اور وہ متبسم لبوں سے بیاں کرتا ہے

دنیا اچھی لگتی ہے رب اچھا لگتا ہے
اچھی آنکھوں والوں کو سب اچھا لگتا ہے

یہ دیوتا اپنی تابندہ روشنی میں فنا کو بقا بنانے کا ہنر جانتا ہے جو فانی سے لا فانی موت سے زندگی شوریدگی سے یکسوئی قیام عارضی سے قیام مستقل نفرت سے محبت شور سے خاموشی پتھر سے موم آتش سے پانی قہر سے مہر شعلے سے ٹھنڈک ہوا سے خوشبو اور عالم خواب سے تعبیر کی رمز تراش لاتا ہے جو اپنے حرف مکرر سے خزاں میں شگوفے پیدا کرنے لگتا ہے اور غم میں دھنسی ہوئی انسانیت کو خوشی کی شاخوں میں جھولنے اور فضاؤں میں جھومنے اور گانے کا ماحول فراہم کرتا ہے وہ رحمت وار صداقت کا خواہاں جس کا ہر شعر امرت رس کی بوند کی مانند زندگی کے پیالے میں گرتا چلا جاتا ہے اور آخر کار وہ پیالہ لبریز ہوجاتا ہے اور اسے پینے والا زندگی کے تمام حقائق کو بہ نظر عمیق سراہنے لگتا ہے
قلب وسیع سے جانچنے اور پرکھنے لگتا ہے کہ نذیر قیصر کیوں مٹی کے پیالے میں دھنک اتارنا چاہتا ہے اور کمہار کے چاک کو کیوں گھمانا چاہتا ہے وہ کیوں ساحل ساحل آسماں خالی دیکھتا ہے کیوں کبوتروں کے غول سے گفتگو کرتا ہے کیوں لفظ اور آواز کے ساۓ میں شباہتیں ڈھونڈتا پھرتا ہے کیوں آنکھ کو شبنم افشانی دیتا ہے کیوں اسے در و دیوار ڈرانے لگتے
ہیں کیوں وہ صفحہ صفحہ بکھرنا پسند کرتا ہے کیوں محبتوں کو سمیٹ کر تقسیم کرنا چاہتا ہے کیوں دھوپ اور بارش سے پھلجھڑیاں بناتا ہے کیوں رات کی چھتری کھولتا ہے
کیوں مٹی کے گھروندوں کی مہک اس کے تن سے جدا نہیں ہوتی کیوں وہ گیلی مٹی سے پرندے بنا کر اڑاتا ہے کیوں ہاتھ پر دیا اتار لاتا ہے کیوں اس کی آنکھوں میں چہرے گڑ جاتے ہیں
کیوں وہ زمیں میں سبزہ و گل دیکھ کر مسکراتا ہے کیوں اسے لڑکی سے ڈرا سایا نظر آتا ہے کیوں وہ برتن برتن گرتے پانی کو برتن میں ڈھلتا دیکھتا ہے استفہام اور دائمی حیرت کی ضو کا یہ رنگ قاری کو نذیر قیصر کی ذات کے گوشوں میں چھپی رمز کے قریب تر کرتا چلا جاتا ہے
کبھی کبھی وہ اپنی قلبی بے چینیوں کو فراموش کر کے نورقمر کی لطافت سے بھرپور عکس کو زندگی کی جھیل کے پانی کی سطح پر ٹھہرنے کا موقع بھی دیتے ہیں شورش گیتی اور الجھنوں کو ابدی نیند سلا دیتے ہیں ترددات اور آلام سے بے نیاز ہو جاتے ہیں پھر دیواروں پر بننے والے ساۓ بھی ان سے ہم کلام ہوتے ہیں تب طمانیت قلبی کی رمز ان سے دامن گیر ہو جاتی ہے پھر وہ شاخ حیات کے پتوں پر لکھتے لکھتے پر سکون یادوں کی وادی میں چلے جاتے ہیں جیسے کوئی درویش ابناۓ جہاں سے کہیں دور پرے کسی انجانی سر گوشی کو سن کر من ہی من میں
سرشار ہو رہا ہو اور تعبیر کا حسن اسے خواب پریشاں سے آگے جانے پر اکسا رہا ہو اور وہ کہہ رہے ہوں

جلتی شاخ میں پھول کھلانا ہے میں نے
اپنے خواب سے آگے جانا ہے میں نے

یہ خداوند کریم کی رحمت ہے کہ مجھے نذیر قیصر صاحب کے شب و روز سے آشنائی فراہم ہوئی اور ایک مصور کی طرح اپنی شعری مصوری میں ان کی ذات کو اجاگر کرنے کا موقع ملا

جیسے اس کی ذات سمندر
ویسے ہی ہر بات سمندر
(وکٹر جان)
میرے قلب کی گہرائیوں سے ان کے علم وفن کی عظمت کے لیے ہمیشہ یہ دعا ابھرتی رہے گی

اے رب دائم ہے ایک دیپک
نذیر قیصر
اجال اس کو نظر سے آگے
تماشہ ہاۓ جہاں سے آگے
اے رب قائم
اتر کے اس میں تو اس دیے کو
ثبات صبح بہار دے دے
اے میرے مالک
میں ملتمس ہوں
میں ملتمس ہوں
واپس جائیں

Please mark your visit by following our Facebook Page
اگر آپ بھی اپنی نگارشات فاختہ ڈاٹ آرگ پر شائع کرانا چاہتے ہیں تو۔۔۔ خوش آمدید