محبت نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ہے
حزقی ایل سروش
گیت
مطالعات: 111
پسند: 0
محبت نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ہے
بنا اِس کے جینا تو کچھ بھی نہیں ہے
۱
پہاڑوں کو اُن کی جگہ سے ہٹا دوں
غریبوں کی خاطر سبھی کچھ لُٹا دوں
۲
فرشتوں کی بولی میں کرنا شفاعت
جلانا بدن اور کرنا حمایت
۳
اُمید اور ایمان ، محبت یہ تینوں
کہ یہ ہمسفر ہوں گے زینوں بہ زینوں
۴
محبت مگر ہے سروشؔ اِن میں افضل
رہِ زندگی میں ہے مانند مشعل
واپس جائیں