جب زَمیں پر دِیے جَلاتے ہیں
عمانوئیل نذیر مانی
غزلیات
مطالعات: 115
پسند: 0
جب زَمیں پر دِیے جَلاتے ہیں
چاند تارے بھی مُسکراتے ہیں
باتیں تُم سے ہزار کرنی ہیں
لفظ ترتیب بُھول جاتے ہیں
دِل میں منزل کی جِستجُو ہی نہیں
بیچ رستے سے لوٹ آتے ہیں
شعر پڑھتے ہیں میر و غالب کے
دردِ دِل اِس طرح جگاتے ہیں
آخِرش ہار ہی گئی ہے ہَوا
کُچھ دِیے اب بھی ٹِمٹِماتے ہیں
غَم زَمانے کے چُھپ نہیں سکتے
اَپنی آنکھوں کو ہم چھُپاتے ہیں
جِن کا ٹُوٹا ہو دِل مَحبّت میں
میرے َاشعار گُنگُناتے ہیں
کارِ دُنیا کو چھوڑ کر مانیؔ
اپنے خالِق سے لَو لگاتے ہیں
واپس جائیں