پیٹ کی بھُوک کو مِٹانے میں
عمانوئیل نذیر مانی
غزلیات
مطالعات: 111
پسند: 0
پیٹ کی بھُوک کو مِٹانے میں
عقل رہتی نہیں ٹھِکانے میں
عُمر لگ جاتی ہے مِرے یارو
اِن مکانوں کو گھر بنانے میں
رَوشنی کا ہمیشہ ساتھ دِیا
رَوشنی کو فقط بڑھانے میں
کوئی اِک بار رُوٹھ جائے تو
دیر لگتی ہے پِھر منانے میں
حادِثے ہوتے ہیں کُچھ ایسے جنہیں
وقت لگتا ہے بھُول جانے میں
دَرد آنکھوں میں آ گیا سارا
مَیں تو مصرُوف تھا چُھپانے میں
اِک زَمانہ لگا ہے اَب کی بار
تیرے دَر تک پلٹ کے آنے میں
کِیا بِگاڑا تھا ہم فقیروں نے
کیا مِلا تُم کو دِل دُکھانے میں
عُمر کٹ جائے گی مِری مانیؔ
رَب کے آگے ہی سَر جھُکانے میں
واپس جائیں