عُمر کی دوڑ گرچہ پُوری ہے
عمانوئیل نذیر مانی
غزلیات
مطالعات: 114
پسند: 0
عُمر کی دوڑ گرچہ پُوری ہے
اِک کہانی مگر اُدھوری ہے
خامشی چِھین لے نہ گویائی
بات کرنی بہت ضرُوری ہے
اُس کی قُدرت ہے ایک سی سب پر
چاہے خاکی ہے یا وہ نُوری ہے
رنگ کالا پسند ہے اُس کو
آنکھ اُس کی اگرچہ بھُوری ہے
نام اُس پر لِکھا ہے رانجھے کا
ہیر کے ہاتھ میں جو چُوری ہے
وہ ہے قادِر تمام چیزوں پر
جابجا اُس کی ہی حضُوری ہے
فاصلے ختم ہونے والے ہیں
مانیؔ یہ دو دِنوں کی دُوری ہے
واپس جائیں