بول بالا کرو سخاوت کا
عمانوئیل نذیر مانی
غزلیات
مطالعات: 113
پسند: 0
بول بالا کرو سخاوت کا
دَرس دیتے ہو کِیُوں عَداوت کا
جِھیل میں زہر کِیُوں مِلایا گیا
اب چلا ہے پتا حقیقت کا
یوں عداوت کے روگ مَت بانٹو
زِندگی راگ ہے مَحبّت کا
جو مِری رُوح میں سمایا ہے
اُس سے رِشتہ ہے بس عقِیدت کا
ہم چراغوں کو خُون دیتے ہیں
دَور گرچہ نہیں سخاوت کا
سارے لوگوں پہ ہے اَثر دیکھو
اُس کے لہجے کی بس حَلاوت کا
کارِ دُنیا میں اُلجھے لوگوں کو
وقت مِل جاتا ہے تِلاوَت کا
ایک دِن وہ ضرُور آئے گا
سوچتا ہے مِری عِیادت کا
وقت ہی بھید کھولے گا مانیؔ
اِن شریفوں کی اِس شرافت کا
واپس جائیں