وَصل کا اِنتظار کرتے ہُوئے
عمانوئیل نذیر مانی
غزلیات
مطالعات: 115
پسند: 0
وَصل کا اِنتظار کرتے ہُوئے
کٹ گئی عُمر پیار کرتے ہُوئے
حوصلہ چاہیے چٹانوں سا
غَم کے دَریا کو پار کرتے ہُوئے
ہم خِزاؤں سے بارہا اُلجھے
اِس چَمن کو بہار کرتے ہُوئے
پُوچھ مَت جو بھی ہم پہ گُزری ہے
زِندگی تُجھ سے پیار کرتے ہُوئے
دِل مِرا بھی کِسی چراغ کے ساتھ
رو پڑا اِنتظار کرتے ہُوئے
سوچتے ہی نہیں ہیں لوگ یہاں
اَپنے جِیون کو خار کرتے ہُوئے
عِشق میں کون سوچتا ہے مِیاں
جاں کِسی پر نِثار کرتے ہُوئے
آہیں بھر بھر کے رو پڑا مانیؔ
غَم کے لمحے شُمار کرتے ہُوئے
واپس جائیں