رَوشن کِسی بھی طور سِتارہ ہُوا نہیں
رَنج و اَلم سے دَوست کنارہ ہُوا نہیں
کیا خاک آسماں سے اُتاری نہیں گئی
کیا رِزق آسماں سے اُتارا ہُوا نہیں
ہے کون جو جہاں میں اَذیت سے بچ سکا
ہے کون دَرد سے جو گُزارا ہُوا نہیں
نُکتہ گروں سے کوئی بھی مُشکِل نہ حل ہُوئی
چارہ گروں سے دَرد کا چارہ ہُوا نہیں
یک طرفہ عِشق میں یہی اِک فائدہ ہُوا
مُجھ کو کِسی بھی طور خَسارہ ہُوا نہیں
ثابِت قدم رہا ہے مِرے ساتھ ساتھ وہ
مُشکِل میں ہے اگرچہ وہ ہارا ہُوا نہیں
مَر مَر کے جی رہا ہے تِرے ہِجر میں یہ دِل
جَل جَل کے بُجھ رہا ہے شرارہ ہُوا نہیں
کوشش کے باوجود بھی منزل نہ پا سکے
اِک شخص اِس جہاں میں ہمارا ہُوا نہیں
یہ دِل تو کارِعشق سے ہر پَل رہا ہے دُور
یہ دِل کبھی بھی جان تُمہارا ہُوا نہیں
مانیؔ دُعا کو ہاتھ اُٹھائے ہوئے ہُوں مَیں
اَب تک تو آسماں سے اِشارہ ہُوا نہیں