دِیا تھا روشنی تھا
عمانوئیل نذیر مانی
غزلیات
مطالعات: 120
پسند: 0
دِیا تھا روشنی تھا
وہ میری آگہی تھا
ہمارے درمیاں بس
تعلق کاغذی تھا
کہ دِل میں تھی اُداسی
وہ وقتِ بے بسی تھا
مَحبّت تھا مَیں اُس کی
وہ میری زِندگی تھا
وہی میرا تھا دِلبر
جو وجہِ دِلبری تھا
بنایا ہی تھا کِیُوں گر
سبھی جب عارضی تھا
اُسے بھی کھو دِیا ہے
وہی میری خُوشی تھا
وہی دریا تھا مانیؔ
جو میری تِشنگی تھا
واپس جائیں