عِشق میں تنہائیاں ہیں اور کیا
عمانوئیل نذیر مانی
غزلیات
مطالعات: 98
پسند: 0
عِشق میں تنہائیاں ہیں اور کیا
دَرد ہے رُسوائیاں ہیں اور کیا
مُشکلِیں، آسانیاں، غم اور خُوشی
وقت کی انگڑائیاں ہیں اور کیا
دُور تک پھیلی ہوئی ہے تیرگی
ہِجر کی پرچھائیاں ہیں اور کیا
میرے حِصّے میں فقط اے جانِ جاں
تیری بے پروائیاں ہیں اور کیا
بج رہی ہیں جو مِرے کانوں میں اَب
دَرد کی شہنائیاں ہیں اور کیا
آنکھ سے بہتے ہوئے جو اَشک ہیں
اُن کی بے پروائیاں ہیں اور کیا
محفلیں تو ساتھ مانیؔ لے گیا
اَب فقط تنہائیاں ہیں اور کیا
واپس جائیں