اُٹھا کے ہاتھ تِرے واسطے دُعا کرتا
عمانوئیل نذیر مانی
غزلیات
مطالعات: 111
پسند: 0
اُٹھا کے ہاتھ تِرے واسطے دُعا کرتا
اے شاہِ وقت اگر تُو کوئی بھَلا کرتا
وہ ایک پھُول تھا اور مَیں اُسی کی خُوشبُو تھا
خُدا ہمیں نہ کبھی اِس طرح جُدا کرتا
مِرا نصیب بھی میرے خِلاف لڑتا ہے
مَیں کاش اُس کو نہ جیون میں یوں خَفا کرتا
بس ایک آخری خواہش یہ میرے دِل کی تھی
مَیں کام نیکی کے دُنیا میں جابجا کرتا
بھٹکنے والوں کو رَستہ دِکھانا لازِم تھا
اَندھیری رات میں روشن کوئی دِیا کرتا
خُدا کی ذات پہ تیرا یقین ہوتا تو
پِھر عُمر بھر وہ تِرے ساتھ بھی وفا کرتا
بھُلا دِیا ہے ہر اِک زخم دیکھ لو مانیؔ
وفا میں اِس سے زیادہ بھی اور کیا کرتا
واپس جائیں