دردِ ہجراں تُجھے چُھپاتے ہُوئے
عمانوئیل نذیر مانی
غزلیات
مطالعات: 105
پسند: 0
دردِ ہجراں تُجھے چُھپاتے ہُوئے
اَشک بہتے ہیں مُسکراتے ہُوئے
ٹُوٹ سکتی ہے ڈور سانسوں کی
یوں روانی سے آتے جاتے ہُوئے
اپنے حِصّے کا نُور بانٹو تُم
کُچھ نہ سوچو دِیا جَـلاتے ہُوئے
مَیں گُزر جاؤں گا زَمانے سے
تُجھ سے عہدِ وَفا نِبھاتے ہُوئے
اُس کے کُوچے میں گھر بناؤں گا
اُس کو دیکھوں گا آتے جاتے ہُوئے
کونسی رہ پہ گامزن ہو تُم
چل رہے ہو جو لڑکھڑاتے ہُوئے
تُم کو شاید پری نَظر آئے
جھِیل پر جاؤ گُنگُناتے ہُوئے
اُس کے لہجے کا درد واضح تھا
مُجھ کو میری غزل سُناتے ہُوئے
دِل میں رکھتا ہُوں مَیں اُسے مانیؔ
اِک نیا قافیہ بناتے ہُوئے
واپس جائیں