جب نِکالے گئے کہانی سے
عمانوئیل نذیر مانی
غزلیات
مطالعات: 114
پسند: 0
جب نِکالے گئے کہانی سے
اَشک بہنے لگے رَوانی سے
ایک ہی بُوند پیاس ہو جِس کی
کیا غرض اُس کو بہتے پانی سے
تیری مَحفِل میں اب وہ بات کہاں
لُطف تھا دوستی پُرانی سے
سارے کِردار ایک جیسے تھے
مَیں نِکل آیا ہُوں کہانی سے
کھینچ لائی ہے جو بڑھاپے تک
مُجھ کو شِکوہ ہے اُس جوانی سے
سُننے والوں پہ جو بھی گُزرے اَب
لفظ پیوستہ ہیں معانی سے
میرے کمرے میں پھیلی ہے خُوشبو
اُس کی بھیجی ہُوئی نِشانی سے
دَشت مانیؔ صَدائیں دیتا ہے
جب سے مانگی ہے پِیاس پانی سے
واپس جائیں