دِل سے تُمہاری یاد کو مِٹنے نہیں دِیا
عمانوئیل نذیر مانی
غزلیات
مطالعات: 121
پسند: 0
دِل سے تُمہاری یاد کو مِٹنے نہیں دِیا
ہم نے کِسی بھی زَخم کو بھرنے نہیں دِیا
چھوڑا نہیں ہے ضبط کا دامن ابھی تلک
آنکھوں سے ایک اَشک بھی گِرنے نہیں دِیا
مَیں خُودپرست ہو نہ سکُوں بھُول کر کبھی
اِس ڈر سے مُجھ کو خُود سے بھی مِلنے نہیں دِیا
یوں تو اُگائے عُمر بھر اُس نے گُلِ فِراق
لیکن گُلِ وِصال کو کھِلنے نہیں دِیا
اُس کا تھا خواب مُجھ کو بُلندی پہ دیکھنا
سو اُس نے مُجھ کو خاک میں مِلنے نہیں دِیا
ماں کی دُعائیں ساتھ ہمیشہ رہیں مِرے
مُجھ کو کِسی نِگاہ سے گِرنے نہیں دِیا
اُس پر نہ کُھل سکیں مِری ساری حقیقتیں
ٹُوٹا بھی دِل مِرا تو بِکھرنے نہیں دِیا
مَوجوں میں تیرتی ہُوئی دہشت کے خوف سے
دَریا میں اُس نے مانیؔ اُترنے نہیں دِیا
واپس جائیں