خواب آنکھوں میں جو پِروتے ہیں
عمانوئیل نذیر مانی
غزلیات
مطالعات: 119
پسند: 0
خواب آنکھوں میں جو پِروتے ہیں
مَنزِلوں کے قریب ہوتے ہیں
کل وہی کاٹنا پڑے گا ہمیں
آج دُنیا میں ہم جو بوتے ہیں
بات نفرت کی وہ نہیں کرتے
اَمن کے جو نقیب ہوتے ہیں
عُمر گُزری ہے دَشت میں اُن کی
چین کی نِیند اَب جو سَوتے ہیں
جِن کی تعبیر ہی نہیں ہوتی
خواب ایسے بھی دِل میں ہوتے ہیں
خُون دِل سے ٹپکنے لگتا ہے
آنکھ جب بھی کبھی بِھگوتے ہیں
مُسکرائوں، تو کِس طرح مانیؔ
میری بستی کے لوگ روتے ہیں
واپس جائیں