حمد
عمانوئیل نذیر مانی
غزلیات
مطالعات: 116
پسند: 0
مِرے مالِک خُداوندا خُدایا
سدا ہم پر رہے رحمت کا سایہ
فلک سُورج زَمیں اور چاند تارے
بڑے دِلکش ہیں یارب سب نظارے
نظر ہر ایک منظر میں تُو آیا
سَمُندر اور دَریا کی رَوانی
بیاں کرتی ہے تیری مہربانی
کہ تُو ہر ایک دِل میں ہے سمایا
نَظر آتی ہے دُنیا میں جو چاہت
یہ دِلداری، مَحبّت اور سخاوت
صِفت ہر ایک ہے تیری خُدایا
زَمانے سے عَداوت دُور کر دے
مَحبّت سے ہمارے دِل تُو بھر دے
بَدی کا ہو زَمانے سے صفایا
واپس جائیں