وفا کے عِوض بے وفائی نہ دینا
عمانوئیل نذیر مانی
غزلیات
مطالعات: 126
پسند: 0
وفا کے عِوض بے وفائی نہ دینا
بس اِک اِلتجا ہے جُدائی نہ دینا
محبّت ہے تُجھ سے کہ دیوانگی ہے
سِوا تیرے کُچھ بھی دِکھائی نہ دینا
خُدا تُجھ سے اَب میں یہی مانگتا ہوں
کہ دُشمن کو مُجھ تک رَسائی نہ دینا
مِرے دِل کی ہلچل مُجھے کہہ رہی ہے
سِتم گر کے دَر پر دُہائی نہ دینا
مَیں درویش بندہ ہُوں میرے خُدایا
مُجھے خواہشِ خُود نُمائی نہ دینا
اُداسی کا یہ مرحلہ بھی عجب ہے
کہ آواز اپنی سُنائی نہ دینا
جو سارے زَمانے سے بے گانہ کر دے
تُو مانیؔ کو وہ آشنائی نہ دینا
واپس جائیں