یہ داستان ہے اِک رنجِ نارسائی کی
عمانوئیل نذیر مانی
غزلیات
مطالعات: 156
پسند: 0
یہ داستان ہے اِک رنجِ نارسائی کی
وفا کے نام پہ لوگوں نے بے وفائی کی
چراغ، چاند، سِتاروں کو روشنی دے کر
خُدا نے سارے جہاں میں ہے روشنائی کی
دیارِ غیر میں عِزّت کمائی ہے مَیں نے
دیارِ غیر میں رہ کر یہی کمائی کی
مَیں تھا بھنور میں کِنارے پہ آ لگا کیسے
کِسی نے غیب سے آکر ہے رہنمائی کی
نِظامِ رِزق رکھا ہے خُدا نے ہاتھ اپنے
وہ دیکھ بھال ہے کرتا سبھی خُدائی کی
ہمارے ساتھ ہُوا ہے سلُوک غیروں سا
ہمارے ساتھ مُقدّر نے بے وفائی کی
مِری دُعا ہے کہ عِزّت مِلے یہاں سب کو
سہے نہ کوئی بھی تکلیف جگ ہنسائی کی
ہزاروں سال مِلیں اُس کو شادمانی کے
خُدا دراز کرے عُمر میرے بھائی کی
کِتابِ زِیست میں مانیؔ یہ لِکھ دِیا مَیں نے
کہ عاشِقوں نے اَجل سے بڑی لڑائی کی
واپس جائیں