کسی کو اپنا بنانے کا فن نہیں آیا
عارف پرویز نقیب
غزلیات
مطالعات: 124
پسند: 0
کسی کو اپنا بنانے کا فن نہیں آیا
کہ دل کی بات بتانے کا فن نہیں آیا
۔۔۔
جمالِ صبح پہ بلائے شبِ سیاہ ٹُوٹی
چراغِ اشک جلانے کا فن نہیں آیا
۔۔۔
یہ کس وقار سے آخر کو کٹ گیا سر بھی
کسی کے در پہ جھکانے کا فن نہیں آیا
۔۔۔
ملا تھا رہ گزر میں، انا دیوار بنی
ہلے تھے ہونٹ بُلانے کا فن نہیں آیا
۔۔۔
جو کھو گیا ہے سر راہ گزارِ ہستی میں
نقیبؔ اس کو بھلانے کا فن نہیں آیا
واپس جائیں