نیند کے جھروکوں سے
جھانکتے ہیں رت جگے
سب بلائیں درد کی دل کو جب جکڑتی ہیں
اس گھڑی میں۔۔۔
سوچ کی کھڑکیوں سے فکر کی ہوائیں سر پٹکتی ہیں
دل کے سب دیوار و در
لرزنے سے لگتے ہیں
تب خیال آتا ہے
۔۔۔
جھیل کے کنارے پہ
عمر صرف کر دی ہے
کشتیاں بنانے میں
میں نے دیر کر دی ہے
بات اک بتانے میں
۔۔۔
کیا خبر تھی یہ ہی بات
مجھ کو دُور کر دے گی
میری بوجھل آنکھوں میں
گویا ریت بھر دے گی
۔۔۔
خواب کی حویلی میں
آگ سی بھڑک اُٹھی
حرف حرف جوڑ کے
وہ لفظ جو بُنے گئے
سارے راکھ ہو گئے
۔۔۔
کچھ تو بچا نہیں
ایک پل میں کتنے غم
زندگی سے آ لگے
(اب تو بس ہے اتنا سا)
۔۔۔
خواب کی حویلی میں
نیند کے جھروکوں سے
جھانکتے ہیں رت جگے