کیوں حبسِ جاں بڑھاتے ہو کھڑکیاں کھولو
عارف پرویز نقیب
غزلیات
مطالعات: 120
پسند: 0
کیوں حبسِ جاں بڑھاتے ہو کھڑکیاں کھولو
میں چلنا بھول گیا ہوں لو بیڑیاں کھولو
۔۔۔
یہ انتظار کی زحمت طوفاں تھمے نہ تھمے
یوں بیٹھ رہنے سے بہتر ہے کشتیاں کھولو
۔۔۔
بدل لو اپنے بھی تیور ہوا مقابل ہے
یہی ہے وقت بغاوت کا بادباں کھولو
۔۔۔
شہر میں حاکمِ آفات آ کے بیٹھ گئے
لبوں سے قُفل اُتارو، چلو زباں کھولو
۔۔۔
کہیں وہ دُور بہت دُور نہ نکل جائے
نقیبؔ جھوٹی اناؤں کی رسیاں کھولو
واپس جائیں