بس یہی تھا کسی گفتگو کا ثمر
تو بھی چپ ہو گیا، میں بھی خاموش ہوں
بے ثمر ہی رہا جستجو کا ثمر
تو بھی چپ ہو گیا، میں بھی خاموش ہوں
۔۔۔
کتنے محتاط تھے ہم بھی چلتے ہوئے
کچھ جھجکتے ہوئے کچھ مچلتے ہوئے
ہم کو مِل نہ سکا آرزو کا ثمر
تو بھی چپ ہو گیا، میں بھی خاموش ہوں
۔۔۔
بے وجہ تو نہیں یوں اقرار آ گیا
اس کے پیچھے ریاضت تو برسوں کی ہے
سانس اُکھڑی تو پایا ہے خُو کا ثمر
تو بھی چپ ہو گیا، میں بھی خاموش ہوں
۔۔۔
کتنے برسوں کا جانے سفر طے ہوا
کتنی صدیوں نے اپنا لہو پی لیا
راس نہ آ سکا کُو بہ کُو کا ثمر
تو بھی چپ ہو گیا، میں بھی خاموش ہوں
۔۔۔
ہم نے روکا نہیں تُو رُکا بھی نہیں
یہ بھی حدِ محبت کا اعجاز تھا
تھا قدم بہ قدم ایک ہُو کا ثمر
تو بھی چپ ہو گیا، میں بھی خاموش ہوں