انسان بہت کم ہیں، حیوانات بہت ہیں
عارف پرویز نقیب
غزلیات
مطالعات: 122
پسند: 0
انسان بہت کم ہیں، حیوانات بہت ہیں
اے جاناں تیرے شہر میں خطرات بہت ہیں
۔۔۔
ہے چلہ کشو! جاپ کوئی ردِ بلا کا
اِس وادیؑ کہسار میں جنات بہت ہیں
۔۔۔
محلات پہ مامور ہیں اب لاکھوں محافظ
خود کش کے لئے اَور مقامات بہت ہیں
۔۔۔
وہ ہے کہ ہر اِک سمت دُعا بانٹ رہا ہے
اور مجھ پر تغافل کی عنائیات بہت ہیں
۔۔۔
دم گھٹتا ہے اب دیس میں بارُود کی بُو سے
اب جینے کو دشوار یہ حالات بہت ہیں
واپس جائیں