زندگی کے راستے میں یہ زیاں ہم نے کیا
عارف پرویز نقیب
غزلیات
مطالعات: 114
پسند: 0
زندگی کے راستے میں یہ زیاں ہم نے کیا
تیرے حصے کا سفر بھی جان جاں ہم نے کیا
...
آدھ رہتے میں کہیں گم ہو گیا تو بھیڑ میں
چاہتوں کے سلسلے کو بے پیاں ہم نے کیا
...
تو نہ آئے گا یقیں ہونے لگا ہے اب ہمیں
سوچتے ہیں خود کو کیسے خوش گماں ہم نے کیا
...
سوچ کا محور تو تم تھے ، سو رہی یہ زندگی!
تم نے کیا کرنا تھا اس کو رائیگاں ہم نے کیا
...
راکھ ہو جاتے اگر تو یہ نقیبؔ اچھا ہی تھا
بے وجہ اس ہجر میں خود کو دھواں ہم نے کیا
واپس جائیں