بُجھ گیا ہے دِیا سو خاموشی
عارف پرویز نقیب
غزلیات
مطالعات: 109
پسند: 0
بُجھ گیا ہے دِیا سو خاموشی
تھم گئی ہے ہوا سو خاموشی
...
کھا گئی ہے بھوک میرے لوگوں کو
اور چُپ ہے خُدا سو خاموشی
...
جسم زندہ ہیں خواہشیں لے کر
مر گئی ہے وفا سو خاموشی
...
ملنے آیا تو شور برپا تھا
ہو گیا ہے جُدا سو خاموشی
...
جب سے بچھڑا عجیب عالم ہے
لب پہ ٹھہری دُعا سو خاموشی
...
در، دریچے سبھی کھلے رکھے
سن نہ پائے صدا سو خاموشی
...
اس کو کھویا نقیبؔ جب ہم نے
ہر سُو گویا خلا سو خاموشی
واپس جائیں