مِرے مدار سے مجھ کو نکال دے کوئی
عارف پرویز نقیب
غزلیات
مطالعات: 106
پسند: 0
مِرے مدار سے مجھ کو نکال دے کوئی
فلک کی سمت ہی مجھ کو اچھال دے کوئی
...
میرا خیال ہے تجھ کو تو آسماں والے !
کسی کو جو نہ دیا ہو خیال دے کوئی
...
ہیں ارد گرد جو میرے حصار کی صورت
کہ زہر سانپوں کا اب تو نکال دے کوئی
...
تیرا وقار سلامت مرے جواب طلب
جواب لینے سے پہلے سوال دے کوئی
...
ہماری گلیوں میں رقصاں ہے موت ہر جانب
تو خاک سوچ کو رنگ جمال دے کوئی
واپس جائیں