اگر میں میں وقت کو اپنے دھیان میں رکھتا
عارف پرویز نقیب
غزلیات
مطالعات: 107
پسند: 0
اگر میں میں وقت کو اپنے دھیان میں رکھتا
تو کیسے تجھ کو میری جان ، جان میں رکھتا
...
اگر نہ ہوتی تیری سمت سے یہ سنگ باری
تو تیر میں بھی آئے جاناں کمان میں رکھتا
...
اگل دیا ہے میری آنکھ نے سبھی ورنہ
یہ آگ اپنے مکاں کی ، مکان میں رکھتا
واپس جائیں