" میں آنکھیں بند نہیں کرتا
عارف پرویز نقیب
غزلیات
مطالعات: 101
پسند: 0
" میں آنکھیں بند نہیں کرتا
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے
ذرا آرام کرنا ہو
ذرا سا اونگھنا ہی ہو
تھکاوٹ بھی بلا کی ہو
بدن دن بھر کی محنت سے
تھکن سے چُور ہوتا ہو
کہ گویا ٹوٹتا سا ہو
کہ بو جھل ہوتی ہوں پلکیں
جلن آنکھوں کو ڈستی ہو
سبھی اعصاب دُکھتے ہوں
مجھے اک خوف رہتا ہے
کہ تُو کب آنکھ میں اُترے
مرے الجھے ہوئے خوابوں میں
کہ تو نہ پھر سے در آئے
میں آنکھیں بند نہیں کرتا
واپس جائیں