ہائے وہ خوش خصال کہ کچھ بھی کہا نہیں
عارف پرویز نقیب
غزلیات
مطالعات: 100
پسند: 0
ہائے وہ خوش خصال کہ کچھ بھی کہا نہیں
آئے کئی سوال کہ کچھ بھی کہا نہیں
...
کہنے کو اتنا کچھ تھا کہ گھنٹوں گزار دیں
تم کو نہ ہو ملال کہ کچھ بھی کہا نہیں
...
اِس شہر ناروا میں تو مرنا توہین تھا
جینا تھا گو محال کہ کچھ بھی کہا نہیں
...
سب نے منافقت کو گلے سے لگا لیا
ہر شے پہ تھا زوال کہ کچھ بھی کہا نہیں
...
اُس کم نگہ کی سوچ پر کڑھتے تو کیا بھلا
ازبر تھا میرا حال کہ کچھ بھی کہا نہیں
واپس جائیں