آؤ گریہ کریں کہ قدم در قدم
گویا ذلت ہمارا مقدر بنی
ہم کہ انسان، انساں رہے ہی نہیں
ریزہ ریزہ یہاں عِزتیں ہو گئیں
پیار و چاہت کی سب حِدتیں کھو گئیں
ائے مرے دیس کے لوگو! آؤ سنو
میں نے دیکھا ہے مُفلس کو لٹتے ہوے
جن کو رسوا کیا،
جن کی جاں تک گئی
بیٹیاں روز ہوتی ہیں اغوا یہاں
خود کشی کا یہاں پہ رواج عام ہے
دن ہے روتا ہوا ماتمی شام ہے
یہ شرافت کی دستار اوڑھے ہوے
بھیڑیے گویا گلیوں میں چھوڑے ہوے
وہ درندے جو پکڑے گئے ہی نہیں
وہ کہ وحشی جو جکڑے گئے ہی نہیں
کب تلک حکمراں چین سے سوٸیں گے
کب تلک سایہِ غم میں ہم روٸیں گے
آسماں چُپ ہے اور یہ زمیں گُنگ ہے
آؤ ماتم کریں
آؤ گریہ کریں
آج نوحہ اُٹھاؤ کرو بین سب
خاک اپنے سروں پہ انڈیلو سبھی
ہم پہ جو حکمراں ہیں مُسلط ہوے
اپنے چُپ کی کہیں یہ سزا تو نہیں؟
چاہتوں کی یہ دھرتی تو بَنجر ہوٸی
بے کسوں کے لیے
بے بسوں کے لیے
یہ زمیں ہی نہیں
عزتوں کے محافظ رہے ہی نہیں
آؤ ماتم کریں
آؤ گریہ کریں