مرکزِ حسن کے محور سے نکل آیا ہوں
عارف پرویز نقیب
غزلیات
مطالعات: 128
پسند: 0
مرکزِ حسن کے محور سے نکل آیا ہوں
آج ایک خوابِ تحیر سے نکل آیا ہوں
۔۔۔
خامشی ایسی کہ گھبرا کے تھا مَیں چیخ اُٹھا
وحشتِ شامِ تغیر سے نکل آیا ہوں
۔۔۔
وقت کی قید میں تھا اذنِ عبادت میرا
بس اُسی لمحۂ شب بھر سے نکل آیا ہوں
۔۔۔
رقص ویرانی کا اور شور اکیلے پن کا
ایسا ماتم تھا کہ مَیں گھر سے نکل آیا ہوں
۔۔۔
اب نقیبؔ اس سے مرا سامنا ہو نہ جائے
میں کہ اک حدِ مقرر سے نکل آیا ہوں
واپس جائیں