حیرت ہے بڑی دیر سے انجان کھڑا ہے
عارف پرویز نقیب
غزلیات
مطالعات: 125
پسند: 0
حیرت ہے بڑی دیر سے انجان کھڑا ہے
جو بن کے مرے شعر کی پہچان کھڑا ہے
۔۔۔
اک ہاتھ میں کچھ پھول ہیں اک ہاتھ میں پتھر
کیا دے گا مجھے خود بھی حیران کھڑا ہے
۔۔۔
ہیں لوگ مجھے دیکھ کے انگشت بدنداں
حیران ہیں اِس شہر میں انسان کھڑا ہے
۔۔۔
وہ لمحہ ہمیں جس نے ملایا تھا کسی روز
بچھڑے ہیں تو وہ لمحہ پریشان کھڑا ہے
۔۔۔
دل کو ہیں نقیبؔ اس سے ہی مرہم کی اُمیدیں
ہاتھوں میں لئے جو کہ نمکدان کھڑا ہے
واپس جائیں