جس کو چاہا، چاہ لیا اب وہ بھلا کیسا بھی ہو
عارف پرویز نقیب
غزلیات
مطالعات: 135
پسند: 0
جس کو چاہا، چاہ لیا اب وہ بھلا کیسا بھی ہو
چلنا ہی جب ہو مقدر راستہ کیسا بھی ہو
۔۔۔
چاہتوں کے پیڑ پہ نفرت کو کھلتے دیکھ کر
کچھ نہ ہوگا طائروں کا چیخنا کیسا بھی ہو
۔۔۔
دسترس میں دستکیں تھیں اور وہ بھی کھو چکے
ہو گئے مایوس تو اب در کھلا کیسا بھی ہو
۔۔۔
میں خریداروں کی صف میں ہو نہیں سکتا شریک
جھوٹ آخر جھوٹ ہے وہ دلکشا کیسا بھی ہو
۔۔۔
سرزمینِ آب پر میں پیاس کی پہچان ہوں
اب تو دریا یا سمندر یا گھٹا کیسا بھی ہو
۔۔۔
جب مصائب کی گھڑی ہو کر بلند دستِ دعا
اُس پہ پھر کیا سوچنا حرفِ دعا کیسا بھی ہو
۔۔۔
وہ کہ بکھرا ٹوٹ کر بارِ انا سے اے نقیبؔ
گر وہ ملنا چاہتا تو فاصلہ کیسا بھی ہو
واپس جائیں