وہ سارے لمحے وہ سارا منظر
جو بھول جاؤ تو بھول جانا
نہ یاد رکھنا
کسی شجر کی گھنیری چھاؤں میں ہم ملے تھے
کہ میری غربت نے وحشتوں کو ہوائیں دی ہیں
کہ میں نے تم کو نجانے کتنی صدائی دی ہیں
۔۔۔
یوں نرم سینے میں سنگ دھڑکیں گے سوچا کب تھا
کہ تو نے اپنا وجود پتھر سا کر لیا ہے
نہ سن رہے ہو
نہ دیکھتے ہو
نہ سوچتے ہو
نہ بولتے ہو
کہ میں نے تم کو نجانے کتنی صدائیں دی ہیں
۔۔۔
کبھی جو گزرو تو یاد رکھنا
گھنیری چھاؤں میں ہم ملے تھے
وہاں ہواؤں سے اُڑ رہے ہیں جو زرد پتے
بطورِ تحسیں
تم ایسا کرنا
خراج دینا محبتوں کا
کہ اپنے پیروں سے روند جانا