برگزیدوں کو ہے مژدہ آ رہا ہے المسیح
حزقی ایل سروش
غزلیات
مطالعات: 207
پسند: 0
برگزیدوں کو ہے مژدہ آ رہا ہے المسیح
کھلنے والا ہے یہ عقدہ آ رہا ہے المسیح
۱
آج لے کر ہاتھ میں وہ اجر دینے آئے گا
اُس کو ہی واجب ہے سجدہ آ رہا ہے المسیح
۲
اس کے آنے سے زمانوں کو ضیا مل جائے گی
اٹھ رہا ہے آج پردہ آ رہا ہے المسیح
۳
اس میں جو مر کے ہوئے شامل فرشتوں میں سروشؔ
وہ بھی ہو جائیں گے زندہ آ رہا ہے المسیح
واپس جائیں