دخترانِ وطن، قوم کی بیٹیو!
حمید ہنری
گیت
مطالعات: 100
پسند: 0
دخترانِ وطن، قوم کی بیٹیو
قوم کی بیٹیو، دخترانِ وطن
...
زندگی کا سفر ہے بڑا پُر خطر
ہر قدم ہے اُٹھانا یہاں سوچ کر
غیرکے شہرِ میں ہیں بہت راہزن
قوم کی بیٹیو، دخترانِ وطن
...
یہ پتنگے یونہی بس ہیں گھوما کئے
بھنورے باغوں میں پھولوں کو چوما کئے
اور شام و سحر ہیں دکھاتے رہے
پیار کی اوٹ میں نفرتوں کا چلن
قوم کی بیٹیو، دخترانِ وطن
...
مثلِ مریم سدا پاک دامن رہو
اور نُورِ مسیحا میں روشن رہو
دل میں دوجا رہے نہ کوئی بیٹیو
اپنے من میں بساؤ خدا کی لگن
قوم کی بیٹیو، دخترانِ وطن
...
تم کسی ڈھنگ میں ہو کسی روپ میں
سایہ بن کے ہے رہنا تمہیں دھوپ میں
ناز تم پہ تمہارے گھرانے کو ہو
ظلمتوں میں بنو روشنی کی کرن
قوم کی بیٹیو، دخترانِ وطن
واپس جائیں